
کیا کبھی کسی ٹیبلٹ نے خود اپنی تصویر کے لیے رنگوں کا مقابلہ رکھا ہے؟ بونی کے کمرے میں اسی قسم کا ایک عجیب اعلان ہوا۔ لِلی پیڈ (Lilypad) کی اسکرین روشن ہوئی اور اس پر بڑے بڑے لفظ نمودار ہوئے، “جو مجھے سب سے انوکھے رنگوں میں سجائے گا، وہ آج کی کہانی کا سربراہ ہوگا۔” ووڈی نے فوراً اپنی ٹوپی سیدھی کی، بز لائٹ ایئر نے اسے ایک اہم خلائی مقابلہ سمجھا اور جیسی نے رنگوں کا ڈبہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ ریکس نے سبز پنسل اٹھائی، پھر گھبرا کر واپس رکھ دی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ لِلی پیڈ کہیں بالکل اسی جیسی نہ دکھنے لگے۔ فورکی کو رنگوں سے زیادہ وہ خالی ڈبہ پسند آیا جس میں پنسلیں رکھی تھیں۔ چند ہی لمحوں میں پورا کمرہ اس سوال پر شور مچانے لگا کہ لِلی پیڈ کو سبز رنگ دیا جائے، جامنی، گلابی یا ایسا رنگ جو ابھی تک کسی نے بنایا ہی نہ ہو۔
لِلی پیڈ ٹوائے اسٹوری 5 کی ایک ایسی شخصیت ہے جو دوسرے کھلونوں سے فوراً الگ نظر آتی ہے۔ ووڈی کو دیکھتے ہی ذہن میں چرواہے اور مہم کی کہانی آتی ہے۔ بز لائٹ ایئر اپنے خلائی لباس اور بہادر انداز سے پہچانا جاتا ہے۔ جیسی تیز رفتار کھیلوں اور اچھل کود کے لیے تیار رہتی ہے۔ لِلی پیڈ ایک ذہین ٹیبلٹ ہے جو روشنی، تصویروں، آوازوں اور کھیلوں کے ذریعے بونی کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس کے پاس ایک روشن اسکرین ہے، لیکن جب اس کی تصویر کاغذ پر پرنٹ ہو جاتی ہے تو وہ اسکرین خاموش ہو جاتی ہے۔ پھر اصل جادو بچے کے ہاتھ میں موجود رنگوں سے شروع ہوتا ہے۔
ٹوائے اسٹوری 5 کی لِلی پیڈ رنگ بھرنے کی تصویر میں کوئی بٹن خود سے نہیں چمکتا۔ کوئی آواز یہ نہیں بتاتی کہ پہلے کون سا حصہ رنگنا ہے۔ بچہ چاہے تو آنکھوں سے آغاز کرے، چاہے اسکرین میں کوئی نئی دنیا بنائے یا پہلے اردگرد کا پورا کمرہ کھینچ دے۔ اس آزادی کی وجہ سے ایک ہی تصویر ہر بچے کے پاس مختلف دکھائی دے گی۔ کسی کی لِلی پیڈ ہلکے سبز رنگ کی ہوگی، کسی کی نیلے اور جامنی رنگ میں، جبکہ کوئی بچہ اس پر سرخ نقطے، پیلے ستارے اور رنگین لہریں بنا دے گا۔
ممکن ہے لِلی پیڈ بہت ترتیب پسند ہو۔ وہ کہے، “سب سے پہلے مرکزی حصہ رنگ کریں، پھر کناروں پر جائیں اور آخر میں اسکرین مکمل کریں۔” مگر بچے کی پنسل سیدھی ترتیب کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ سب سے پہلے اسکرین پر ایک اڑتا ہوا سموسہ بنا سکتا ہے۔ سموسے کے دونوں طرف پر ہوں، سر پر خلائی ٹوپی ہو اور پیچھے رنگین دھواں نکل رہا ہو۔ لِلی پیڈ اپنی تمام معلومات کھنگال کر بھی یہ نہ سمجھ پائے کہ سموسہ چاند پر کیوں جا رہا ہے۔ جواب صرف اتنا ہے کہ اس وقت بچے کو یہی خیال مزے دار لگا۔
رنگ بھرتے ہوئے لکیر سے باہر نکل جانا بھی کہانی کا حصہ بن سکتا ہے۔ نیلی لکیر باہر چلی گئی تو اسے پانی کی ندی بنا دیں۔ سرخ نشان پڑ گیا تو وہاں ایک چھوٹا سا بٹن کھینچ دیں۔ سیاہ نقطہ بن گیا تو اسے دور کھڑا روبوٹ بنا دیں۔ کاغذ پر غلطی کبھی کبھی نئی چیز کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ جہاں پہلے خالی جگہ تھی، وہاں ایک راستہ بن جاتا ہے۔ راستے کے آخر میں دروازہ نمودار ہوتا ہے، اور دروازے کے پیچھے کھلونوں کی ایسی دنیا ہوسکتی ہے جو کسی اسکرین میں پہلے سے محفوظ نہیں۔
سوچیے، لِلی پیڈ کی اسکرین پر اچانک ایک چابی کی تصویر ظاہر ہوتی ہے۔ ساتھ لکھا ہے، “یہ چابی اس دروازے کی ہے جو ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے۔” ووڈی اسے ایک سنجیدہ ذمہ داری سمجھ کر نقشہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ جیسی فوراً کہتی ہے کہ نقشہ بنانے میں وقت ضائع نہ کیا جائے، پہلے دوڑ کر دروازہ تلاش کرتے ہیں۔ بز اعلان کرتا ہے کہ ممکن ہے یہ کسی دوسرے سیارے کی خفیہ گزرگاہ ہو۔ ریکس پوچھتا ہے کہ دروازے کے پیچھے کوئی بہت بڑا جانور تو نہیں۔ فورکی صرف یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ چابی پلاسٹک کی ہے یا نہیں۔
بچہ لِلی پیڈ کے اردگرد اس تلاش کا پورا منظر کھینچ سکتا ہے۔ بستر کے نیچے سرنگ، کتابوں کے پیچھے سیڑھی، پردے کے پاس چھوٹی کھڑکی اور کھلونوں کے ڈبے کے اندر گھومتا ہوا راستہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک جگہ جرابوں کا پہاڑ ہو، دوسری جگہ رنگین بلاکس کا پل اور تیسری جگہ ایک سویا ہوا کھلونا ریچھ راستہ روکے بیٹھا ہو۔ ووڈی ہاتھ میں نقشہ لیے کھڑا ہے، جیسی آگے نکل چکی ہے اور بز کسی چمکتی ہوئی چیز کو خلائی اشارہ سمجھ کر دوسری طرف جا رہا ہے۔
لِلی پیڈ سب کو مختصر راستہ دکھاتی ہے، لیکن کوئی اس راستے پر قائم نہیں رہتا۔ جیسی کو گھومتا ہوا راستہ زیادہ دلچسپ لگتا ہے۔ ووڈی کسی چھوٹے کھلونے کی مدد کے لیے رک جاتا ہے۔ بز کو دیوار پر چمکتی روشنی دکھائی دیتی ہے اور وہ اسے کہکشانی پیغام سمجھ لیتا ہے۔ ریکس اپنے ہی قدموں کی آواز سن کر واپس بھاگتا ہے۔ فورکی راستے میں کاغذ کا ایک ٹکڑا دیکھ کر خوشی سے بیٹھ جاتا ہے۔ لِلی پیڈ کا نقشہ درست ہے، مگر کہانی اس سے بھی زیادہ مزے دار راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
بچوں کے کھیل میں یہی تو ہوتا ہے۔ ایک ڈبہ صبح گاڑی بن سکتا ہے، دوپہر کو محل اور شام تک سمندر میں چلنے والی کشتی۔ تکیہ کبھی پہاڑ ہے اور کبھی بڑا سا کیک۔ کھلونا ڈائنوسار پہلے خوفناک دشمن بنتا ہے، پھر اچانک باورچی بن کر سب کے لیے خیالی بریانی تیار کرنے لگتا ہے۔ کھیل کے اصول بدلنے سے کھیل خراب نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر نئی تبدیلی سے کہانی میں تازہ ہنسی اور نیا موڑ آتا ہے۔
لِلی پیڈ شاید اس انداز کو شروع میں سمجھ نہ پائے۔ اسکرین والے کھیلوں میں ہدایات، نمبر اور منزل پہلے سے مقرر ہوتی ہے۔ کاغذ کے کھیل میں بچہ درمیان میں اپنا خیال بدل سکتا ہے۔ وہ آسمان بنا رہا ہو اور اچانک اسے پتنگوں سے بھر دے۔ پھر ایک پتنگ کی ڈور لِلی پیڈ کی اسکرین سے جا ملے۔ اسکرین پر پیغام نمودار ہو، “گم شدہ نیلی پتنگ کو تلاش کرو۔” اب رنگ بھرنے کی تصویر ایک نئی مہم میں بدل جاتی ہے۔
پاکستانی بچوں کے لیے پتنگ والا منظر خاص طور پر شوخ اور رنگین بنایا جا سکتا ہے۔ آسمان میں سرخ، پیلی، سبز اور جامنی پتنگیں اڑ رہی ہوں۔ ووڈی ڈور کو سنبھالنے کی کوشش کرے، جیسی تیزی سے چھت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑے اور بز سب سے اونچی پتنگ کو خلائی جہاز قرار دے۔ ریکس ہوا کے ہر تیز جھونکے پر گھبرا جائے کہ شاید کوئی پتنگ اس کے سر پر آ گرے گی۔ فورکی کو چرخی کا خالی ڈبہ اتنا پسند آئے کہ وہ اسے اپنی نئی کرسی بنا لے۔
لِلی پیڈ اسکرین پر ہوا کی سمت، پتنگ کی اونچائی اور سب سے محفوظ راستہ دکھاتی ہے۔ لیکن بچے اپنے منظر میں کچھ بھی شامل کر سکتے ہیں۔ ایک پتنگ مچھلی کی شکل کی ہو، دوسری پر مسکراتا ہوا چاند بنا ہو، تیسری پتنگ کے پیچھے چھوٹے ستارے لگے ہوں۔ بادل بھی سفید ہونا ضروری نہیں۔ وہ گلابی، نارنجی یا ہلکے سبز رنگ کے ہوسکتے ہیں۔ آسمان میں ایک چھوٹی سی چائے کی پیالی بھی تیر رہی ہو تو یہ بھی بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ خیالی دنیا میں پیالی کو پرواز کی اجازت کسی سے لینے کی ضرورت نہیں۔
لِلی پیڈ کے نام سے پانی پر تیرتے ہوئے پتے کا خیال بھی آتا ہے۔ اس لیے اس کی تصویر کو ایک جادوئی تالاب میں لے جانا بھی اچھا کھیل بن سکتا ہے۔ بچہ نیلے اور سبز رنگ سے پانی بھرے، گول پتے بنائے، کنارے پر گھاس، پھول اور چھوٹے پتھر کھینچے۔ لِلی پیڈ سب سے بڑے پتے پر بیٹھی ہو اور اس کی اسکرین پر مینڈکوں کے مقابلے کا اسکور چل رہا ہو۔
ایک مینڈک اپنی شکل اسکرین میں دیکھ کر سمجھے کہ اندر اس کا جڑواں بھائی رہتا ہے۔ دوسرا اپنی ٹانگ سے بٹن دبانے کی کوشش کرے۔ تیسرا مینڈک سب سے اونچی چھلانگ لگانے کی تیاری کر رہا ہو۔ چھوٹی مچھلیاں پانی کے اندر سے روشن اسکرین کو دیکھیں۔ ایک گھونگا لِلی پیڈ کے لیے خط لے کر آ رہا ہو، لیکن اتنی آہستہ چل رہا ہو کہ پہنچتے پہنچتے مقابلہ ختم ہوجائے۔
ووڈی کاغذ کی کشتی میں بیٹھا اپنی ٹوپی کو گیلا ہونے سے بچا رہا ہو۔ جیسی ایک پتے سے دوسرے پر چھلانگیں لگاتے ہوئے دوڑ شروع کر دے۔ بز تالاب کو کسی نامعلوم سیارے کا سمندر قرار دے۔ ریکس کنارے پر رکا ہو کیونکہ ایک ننھے سے مینڈک کے بچے نے اسے دیکھ لیا ہے۔ فورکی کو گھاس کے پاس پلاسٹک کا کپ مل جائے اور وہ فوراً اعلان کر دے کہ اسے دنیا کا سب سے خوبصورت گھر مل گیا ہے۔
لِلی پیڈ سب کو محفوظ راستہ دکھاتی ہے۔ جیسی سب سے تیز راستہ چنتی ہے۔ ووڈی پانی میں پھنسے کیڑے کو بچانے کے لیے رک جاتا ہے۔ بز سورج کی چمکتی ہوئی لکیر کا پیچھا کرتا ہے۔ ریکس مینڈک کی آواز سنتے ہی پچھلے پتے پر واپس آ جاتا ہے۔ فورکی اپنے کپ کے گھر سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ کسی نے بھی نقشے پر عمل نہیں کیا، لیکن سب کے پاس سنانے کے لیے ایک مزیدار قصہ بن گیا۔
اس منظر میں بچے اپنی مرضی کے جانور بھی کھینچ سکتے ہیں۔ چشمہ پہنی مچھلی، ٹوپی والا کچھوا، رنگین پروں والی تتلی اور ڈھول بجاتا ہوا مینڈک۔ پانی کے اندر ایک چھوٹی سی دکان ہو سکتی ہے جہاں بلبلے، موتی اور کھلونا کشتیوں کے ٹکٹ ملتے ہوں۔ لِلی پیڈ کی اسکرین اس دکان کا راستہ دکھا رہی ہو، مگر راستے میں ہر موڑ پر کوئی نئی شرارت انتظار کر رہی ہو۔
لِلی پیڈ ٹیبلٹ کی اسکرین خود ایک چھوٹا کینوس ہے۔ بچے اس میں کھلونوں کے لیے خاص ایپس بنا سکتے ہیں۔ ووڈی کے لیے گم شدہ ٹوپی تلاش کرنے والی ایپ۔ جیسی کے لیے کمرے کی چیزوں سے ریس کا راستہ بنانے والا بٹن۔ بز کے لیے ستاروں اور سیاروں کا نقشہ۔ ریکس کے لیے ایسی ایپ جو خوفناک آوازوں کو مزاحیہ آوازوں میں بدل دے۔
ویکیوم کلینر کی آواز مرغی کی کڑ کڑ بن جائے۔ باہر کی گرج کسی بڑے ڈکار جیسی سنائی دے۔ بستر کے نیچے سے آنے والی کھڑکھڑاہٹ نرم لوری میں بدل جائے۔ ریکس پھر بھی پہلے تھوڑا گھبرائے گا، لیکن شاید لِلی پیڈ کے ساتھ اندھیرے میں دو قدم آگے جانے کی ہمت کر لے۔
فورکی کے لیے سب سے منفرد ایپ بنے گی۔ وہ کاغذ کے ٹکڑے، بوتلوں کے ڈھکن، پلاسٹک کے چمچ، خالی کپ اور پرانے ڈبے تلاش کرے گی۔ اسکرین پر جیسے ہی خبر آئے کہ بستر کے نیچے چمکدار کاغذ ملا ہے، فورکی خوشی سے دوڑ پڑے گا۔ ووڈی اور بز بھی اس کے پیچھے جائیں گے، یہ سوچ کر کہ کوئی خزانہ ملا ہے۔ وہاں صرف مٹھائی کا پرانا ریپر ہوگا، لیکن فورکی اسے دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر کہے گا کہ اتنی خوبصورت چیز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
بچہ اسکرین پر چھوٹے نشان بنا سکتا ہے۔ ٹوپی، ستارہ، جراب، آم، بسکٹ، پتنگ، مینڈک اور بڑا سا سوالیہ نشان۔ جراب والا بٹن گم شدہ جوڑی تلاش کرے۔ آم والا بٹن کمرے میں میٹھی خوشبو پھیلا دے۔ پتنگ والا بٹن ہوا چلا دے۔ ستارہ خلائی سفر شروع کرے۔ سوالیہ نشان ایسا کام کرے جس کا فیصلہ صرف تصویر بنانے والا بچہ کرے۔
ممکن ہے سوالیہ نشان دبانے سے بونی کا کمرہ کھلونوں کے میلے میں بدل جائے۔ لِلی پیڈ میزبان بنے اور اسکرین پر رنگین روشنیاں دکھائے۔ ووڈی بہادر شیرف کی کہانی سنائے۔ جیسی کتابوں اور بلاکس کے درمیان دوڑ لگائے۔ بز ایک تکیے پر شاندار انداز میں اترنے کی کوشش کرے، مگر کپڑوں کی ٹوکری میں جا گرے۔ ریکس صرف ایک سر گائے اور اپنی ہی آواز سے ڈر جائے۔ فورکی بوتلوں کے ڈھکنوں کا مجموعہ دکھا کر پہلے ہی خود کو فاتح سمجھ لے۔
بچے اس میلے کے گرد غبارے، جھنڈیاں، روشنیاں اور تماشائی بنا سکتے ہیں۔ لِلی پیڈ نمبر دینے کی کوشش کرے، مگر ہر کھیل اپنی جگہ اتنا دلچسپ ہو کہ وہ سب کے لیے بڑا سا ستارہ دکھا دے۔ ووڈی جھک کر شکریہ ادا کرے، جیسی اگلی دوڑ کے لیے تیار ہو، بز کپڑوں کی ٹوکری میں گرنے کو کامیاب خلائی لینڈنگ قرار دے اور ریکس خوش ہو کہ اسے دوبارہ گانا نہیں پڑے گا۔
لِلی پیڈ کے رنگوں کو خفیہ زبان بھی بنایا جا سکتا ہے۔ سبز کا مطلب ہو کہ اسے نیا خیال آیا ہے۔ پیلا خوشی کا رنگ ہو۔ نیلا خلائی موڈ ظاہر کرے۔ سرخ بتائے کہ بیٹری کم ہے۔ جامنی رنگ کسی پوشیدہ پیغام کا اشارہ بنے۔ بچہ اپنے الگ معنی بنا سکتا ہے اور تصویر مکمل ہونے کے بعد گھر والوں کو رنگوں کا راز بتا سکتا ہے۔
لِلی پیڈ کی تصویر رنگنے کے لیے رنگین پنسلیں، مومی رنگ، اسکیچ پین یا مناسب موٹے کاغذ پر پینٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رنگین پنسلوں سے آنکھوں اور اسکرین کے چھوٹے حصے صاف رنگے جاتے ہیں۔ مومی رنگ بڑے حصوں کو جلدی بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسکیچ پین اسکرین کو روشن اور نمایاں بنا سکتے ہیں۔ اگر بچہ پینٹ کرنا چاہے تو کسی بڑے کی مدد سے میز تیار کرکے پس منظر میں آسمان، تالاب یا بونی کا کمرہ بنایا جا سکتا ہے۔
تصویر ایک ہی نشست میں مکمل کرنا ضروری نہیں۔ آج صرف آنکھیں اور اسکرین رنگی جا سکتی ہیں۔ کل جسم پر ڈیزائن بنائے جائیں۔ کسی اور دن پس منظر میں دروازہ، کھڑکی یا نیا کردار کھینچا جائے۔ ہو سکتا ہے خالی کونے میں ایک چھوٹی سی گیند بنے اور پھر وہ باتیں کرنے والا لڈو بن جائے۔ وہ لڈو کمرے میں گھومتا پھرے اور کہے کہ وہ میٹھا نہیں بلکہ ایک مشہور جاسوس ہے۔
ووڈی جاسوس لڈو کے ساتھ گم شدہ رنگ تلاش کرے۔ جیسی سرخ پنسل کے نشانات کا پیچھا کرے۔ بز ان نشانات کو کسی خلائی مخلوق کا پیغام سمجھے۔ ریکس لڈو سے مناسب فاصلہ رکھے کیونکہ اسے شک ہو کہ وہ اچانک اچھل سکتا ہے۔ فورکی صرف اس پلیٹ میں دلچسپی لے جس میں لڈو پہلے رکھا گیا تھا۔
اس کہانی کو دوسرے کاغذ پر مزاحیہ تصویروں کی صورت میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پہلی تصویر میں رنگ غائب ہوں۔ دوسری میں لِلی پیڈ نقشہ دکھائے۔ تیسری میں سب کھلونے تلاش کے لیے نکلیں۔ چوتھی میں معلوم ہو کہ فورکی نے رنگوں کا ڈبہ اپنا نیا گھر بنا لیا تھا۔ بچے مکالمے لکھ سکتے ہیں یا صرف چہروں کے تاثرات سے قصہ بیان کر سکتے ہیں۔
لِلی پیڈ خوش ہو تو اس کی آنکھیں چمکتی ہوئی بنائی جا سکتی ہیں۔ حیران ہو تو اسکرین پر بڑا سوالیہ نشان ہو۔ اداس ہو تو بادل یا چھوٹی بوندیں بنائی جائیں۔ نئی بات سمجھ آئے تو روشن ستارہ دکھایا جائے۔ اس طرح رنگ اور شکلیں مل کر شخصیت کے جذبات بتاتی ہیں۔
لِلی پیڈ کی بیٹری ایک فیصد رہ جانے والا منظر بھی الگ مہم بن سکتا ہے۔ اسکرین مدھم ہونے لگے۔ ووڈی کھلونوں کے ڈبے میں چارجر تلاش کرے۔ جیسی پردے کے پیچھے دیکھے۔ بز دیوار کے ساکٹ کو خلائی اڈے کا پیچیدہ آلہ سمجھ کر جانچے۔ ریکس کہے کہ اس نے لمبی تار ہلتی دیکھی تھی، مگر وہ اس کی اپنی دم نکلے۔ فورکی پلگ کو تاج کی طرح سر پر پہن لے۔
ساکٹ تک پہنچنے کے لیے سب کو کتابوں کے ڈھیر کے اوپر سے جانا ہوگا، کرسی کے نیچے سے گزرنا ہوگا اور ویکیوم کلینر کے پاس سے نکلنا ہوگا۔ مشین بند ہے، پھر بھی ریکس بہت دور سے چکر لگائے گا۔ جیسی سب سے آگے نکل جائے گی۔ بز چھوٹی روشنی دیکھ کر راستہ بدل لے گا۔ ووڈی پیچھے رہ جانے والے دوستوں کی مدد کرے گا۔ فورکی چمکتا کاغذ دیکھ کر کچھ دیر کے لیے اصل کام بھول جائے گا۔
جب سب دیوار کے قریب پہنچیں تو پتا چلے کہ چارجر کی تار بہت چھوٹی ہے۔ اب حل بچہ کھینچے گا۔ لمبے بازو والا روبوٹ لِلی پیڈ کو اٹھا سکتا ہے۔ کھلونا ٹرین اسے ساکٹ کے پاس لے جا سکتی ہے۔ روشنی دینے والا جادوئی پھول توانائی بانٹ سکتا ہے۔ ٹانگوں والی بیٹری دوڑتی ہوئی آ سکتی ہے۔ کاغذ کی دنیا میں عجیب خیال بھی بہترین حل بن سکتا ہے۔
لِلی پیڈ کو اڑنا ہو تو اس کے پر بنائے جا سکتے ہیں۔ راستے میں ندی ہو تو پل کھینچا جا سکتا ہے۔ ریکس کو اندھیرے سے ڈر لگے تو اس کے اوپر ستارے کی شکل کا چراغ بنا دیں۔ ڈرائنگ اور رنگ بھرنے کا فائدہ یہی ہے کہ کہانی میں جو چیز موجود نہ ہو، بچہ اسے خود شامل کر سکتا ہے۔
لِلی پیڈ کی رنگ بھرنے والی تصویر اسکول کے بعد پرسکون وقت، بارش کی دوپہر یا گھر والوں کے ساتھ اسکرین سے کچھ دیر دور رہنے کے لیے اچھی سرگرمی بن سکتی ہے۔ تصویر پرنٹ کریں، رنگ میز پر رکھیں اور بچے کو اپنی پسند کے حصے سے آغاز کرنے دیں۔ بڑے رنگ طے کرنے کے بجائے دلچسپ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ لِلی پیڈ کی اسکرین پر کیا ہے؟ ووڈی کہاں جا رہا ہے؟ ریکس کیوں چھپا ہے؟ بز کس چیز کو خلائی جہاز سمجھ رہا ہے؟
ایک سوال سے لمبی کہانی نکل سکتی ہے۔ لِلی پیڈ کا انٹرنیٹ بند ہوجائے اور کوئی کھیل نہ کھلے تو ووڈی کہے گا کہ اپنا کھیل بناتے ہیں۔ جیسی سب سے کہے گی کہ ذہن میں آنے والی سب سے عجیب چیز بتاؤ۔ بز کہے گا، چاند پر جانے والی جلیبی۔ ریکس اس میں ایک دیو شامل کرے گا، پھر فوراً کہے گا کہ دیو نرم دل ہونا چاہیے۔ فورکی پوچھے گا کہ جلیبی کے نیچے رکھا کاغذ اسے مل سکتا ہے یا نہیں۔
لِلی پیڈ اسکرین پر جلیبی کی شکل کا خلائی جہاز بنا دے۔ ووڈی خزانے کا نقشہ شامل کرے۔ جیسی چاند تک دوڑ کا راستہ بنائے۔ بز پائلٹ بنے۔ ریکس دروازے کے قریب نشست چنے تاکہ ضرورت پڑنے پر جلد باہر نکل سکے۔ فورکی خالی کاغذ سنبھال کر خوش ہو جائے۔ کسی ایپ کے بغیر ایک نیا کھیل تیار ہو جائے گا۔
بچے لِلی پیڈ کے ساتھ وہ جلیبی راکٹ بھی کھینچ سکتے ہیں۔ اس کے گول چکروں میں کھڑکیاں ہوں، پیچھے قوس قزح جیسا دھواں نکلے اور سامنے مسکراتا چہرہ ہو۔ چاند ایک بڑی روٹی جیسا دکھائی دے سکتا ہے۔ ستارے تالیاں بجا رہے ہوں۔ ووڈی کھلونا گھوڑے پر پیچھے آئے، جیسی رسی سے راکٹ پکڑنے کی کوشش کرے اور بز آگے اڑ کر راستہ دکھائے۔
تصویر مکمل ہونے کے بعد اسے بچوں کے کمرے، فریج یا ٹوائے اسٹوری 5 کی تصویروں والی فائل میں رکھا جا سکتا ہے۔ کسی بڑے کی مدد سے لِلی پیڈ کو احتیاط سے کاٹ کر موٹے کارڈ پر چپکایا جائے تو وہ کاغذی کھلونا بن سکتی ہے۔ جوتوں کا ڈبہ بونی کا کمرہ، صاف ڈھکن کرسیاں اور کپڑے کے ٹکڑے پردے بن سکتے ہیں۔
ووڈی، بز، جیسی، ریکس اور فورکی کو دوسرے کاغذ پر کھینچ کر چھوٹا سا کھیل تیار کیا جا سکتا ہے۔ آج لِلی پیڈ میلے کی میزبان ہو۔ کل تالاب کی ملکہ۔ کسی اور دن وہ کھلونوں کی استاد بن جائے یا گم شدہ پنسلوں کی جاسوس۔ ایک ہی کردار ہر مرتبہ الگ کہانی میں داخل ہوسکتا ہے۔
کئی بچے ایک ہی لِلی پیڈ تصویر پرنٹ کریں تو بھی تیار ہونے والی تصویریں مختلف ہوں گی۔ ایک لِلی پیڈ سبز ہوگی اور مینڈکوں کے تالاب میں رہے گی۔ دوسری جامنی رنگ کا خلائی جہاز چلائے گی۔ کسی کی اسکرین پر پتنگوں کا نقشہ ہوگا۔ کسی کے پاس جلیبی راکٹ۔ ہر تصویر بچے کی اپنی سوچ اور پسند دکھائے گی۔
ٹوائے اسٹوری 5 کی لِلی پیڈ اسکرین، آواز اور جدید کھیلوں کی دنیا سے آتی ہے، مگر یہ سرگرمی اصل کاغذ، رنگ اور بچے کے ہاتھ سے مکمل ہوتی ہے۔ کوئی بٹن پوری تصویر کو ایک لمحے میں نہیں بھرے گا۔ کوئی پروگرام یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ خالی حصے میں کیا بننا چاہیے۔ ہر رنگ ایک انتخاب ہوگا اور ہر نئی لکیر کسی دوسری مہم کا راستہ کھول سکتی ہے۔
اب لِلی پیڈ رنگ بھرنے کی تصویر پرنٹ کریں، رنگوں کا ڈبہ کھولیں اور پہلی پنسل منتخب کریں۔ آج اس کی اسکرین پر بدلتا ہوا دروازہ ہوگا، پتنگوں کا آسمان، مینڈکوں کا مقابلہ، کھلونوں کا میلہ یا چاند کی طرف جاتی جلیبی؟ لِلی پیڈ بہت سے تیار کھیل جانتی ہوگی، مگر اس کاغذ پر بننے والی کہانی اسے بھی پہلے سے معلوم نہیں۔ یہ راز اسی وقت کھلے گا جب بچے کا پہلا رنگ تصویر کو چھوئے گا۔

