
بز کے سینے پر لگے تین چھوٹے بٹن آج کوئی نہ کوئی راز ضرور چھپا رہے ہیں۔ نیلا بٹن شاید کمرے کا نقشہ کھول دے، سبز بٹن پروں کو باہر نکال دے، اور سرخ بٹن دباتے ہی پچاس دوسرے بز لائٹ ایئر اچانک سامنے آ جائیں۔ اس تصویر میں ابھی کوئی بٹن روشن نہیں، کیونکہ پہلا قدم رنگ بھرنے والے بچے نے اٹھانا ہے۔ ٹوائے اسٹوری 5 کے بز لائٹ ایئر کی یہ تصویر پرنٹ کیجیے، رنگوں کا ڈبہ قریب رکھیے اور طے کیجیے کہ آج کا خلائی محافظ اپنے مشہور سفید، سبز اور جامنی لباس میں جائے گا یا کسی بالکل نئی وردی کے ساتھ اپنا مشن شروع کرے گا۔
بز کی شکل رنگ بھرنے کے لیے خاصی دلچسپ ہے۔ اس کے سینے، بازوؤں، ٹانگوں اور جوتوں پر کھلے حصے ہیں جنہیں چھوٹے بچے کریون سے آسانی سے بھر سکتے ہیں۔ دوسری طرف بٹن، بیج، نام کی پٹی، پروں کی دھاریاں اور جوڑوں کے باریک حصے ان بچوں کو مصروف رکھتے ہیں جو آہستہ آہستہ اور صفائی سے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تصویر کو سر سے پاؤں تک ایک ہی ترتیب میں مکمل کرنا ضروری نہیں۔ بچہ پہلے پروں سے آغاز کر سکتا ہے، پھر سینے کے بٹن رنگ سکتا ہے اور آخر میں چہرے کے گرد موجود جامنی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔
اسپیس سوٹ کا بڑا حصہ سفید ہے، اس لیے کاغذ کے ہر سفید مقام کو کسی اور رنگ سے ڈھانپنے کی ضرورت نہیں۔ سفید جگہیں باقی رہیں تو بز کا جانا پہچانا لباس زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ اگر بچے کو لباس میں گہرائی دکھانی ہو تو کناروں کے ساتھ ہلکا نیلا یا بہت نرم سرمئی رنگ لگایا جا سکتا ہے۔ کندھے کے نیچے، جوتے کے ایک کنارے اور سینے کے پینل کے آس پاس چند ہلکی لکیریں کافی ہوں گی۔ درمیان کا حصہ سفید رہنے سے ایسا محسوس ہوگا جیسے روشنی چمک دار پلاسٹک پر پڑ رہی ہے۔
چمک دار لائم سبز اور جامنی رنگ بز کی پہچان کا اہم حصہ ہیں۔ سبز رنگ سینے، بازوؤں، ٹانگوں اور اس کے بعض آلات پر آتا ہے، جبکہ جامنی رنگ سر کے گرد بنے حصے، کمر اور ٹانگوں کی چند تفصیلات میں دکھائی دیتا ہے۔ جسم کے حرکت کرنے والے جوڑ گہرے سرمئی یا سیاہ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ واضح حدیں ان بچوں کے لیے مددگار ہوتی ہیں جو ابھی لائنوں کے اندر رنگ بھرنے کی مشق کر رہے ہوں۔
رنگ شروع کرنے سے پہلے تصویر کو ایک چھوٹی سی تلاش میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ بچے سے کہیں کہ وہ پہلے تمام گول اور بیضوی شکلیں تلاش کرے۔ پھر دونوں پروں میں ملتے جلتے حصے دیکھے، سبز پینل گنے اور معلوم کرے کہ جامنی رنگ کہاں کہاں آئے گا۔ ہر چیز ملنے پر اسے فوراً رنگا جا سکتا ہے۔ یوں ایک بڑی تصویر کئی مختصر اور آسان مرحلوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
سینے پر بنا کنٹرول پینل کسی ننھے خلائی جہاز کے کاک پٹ جیسا لگتا ہے۔ ایک طرف تین بیضوی بٹن قطار میں موجود ہیں، جن کے معروف رنگ نیلا، سبز اور سرخ ہیں۔ دوسری جانب بڑا گول سرخ بٹن، اسٹار کمانڈ کا نشان اور “LIGHTYEAR” لکھی ہوئی نام کی پٹی دکھائی دیتی ہے۔ ان چھوٹے حصوں کے لیے اچھی طرح تراشی ہوئی رنگین پنسل مناسب رہے گی۔ باریک نوک والے اسکیچ پین سے بٹن زیادہ روشن نظر آ سکتے ہیں، مگر کاغذ کے نیچے ایک پرانا صفحہ رکھنا بہتر ہوگا تاکہ سیاہی میز تک نہ پہنچے۔
بٹنوں کی اصل طاقت بچے کی کہانی میں چھپی ہو سکتی ہے۔ نیلا بٹن کمرے کا خفیہ نقشہ دکھائے، سبز بٹن پر کھولے اور سرخ بٹن ووڈی اور جیسی کو فوری پیغام بھیجے۔ کسی دوسرے مشن میں ایک بٹن پلنگ کے نیچے گرا ہوا کھلونا ڈھونڈ سکتا ہے، دوسرا اندھیرے میں روشنی جلا سکتا ہے اور تیسرا تمام کھلونوں کو میٹنگ کے لیے بلا سکتا ہے۔ یہ فلم کے لازمی واقعات نہیں، بلکہ رنگ بھرتے ہوئے بنائی گئی اپنی کہانی کے خیالات ہیں۔
دائیں بازو پر موجود سرخ روشنی کا آلہ سفید سوٹ کے درمیان فوراً نمایاں ہو جاتا ہے۔ اسے شوخ سرخ رنگ دینے کے بعد آس پاس چند چھوٹی لکیریں بنائی جا سکتی ہیں، جیسے روشنی ابھی ابھی روشن ہوئی ہو۔ بچہ اس سے نکلتی ہوئی ایک باریک شعاع بھی کھینچ سکتا ہے۔ شعاع کسی پراسرار نشان، گم شدہ کھلونے یا پردے کے پیچھے چھپے ساتھی تک جا سکتی ہے۔
بز کے معروف آلات میں اس کا روشنی والا بازو، کھلنے والے پر اور خلائی محافظ جیسا انداز شامل ہیں۔ سرکاری ڈزنی تعارف بھی اسے ایک بہادر اسپیس رینجر ایکشن فگر کے طور پر بیان کرتا ہے جس کے پاس روشنی کا شعاعی آلہ اور باہر نکلنے والے پر ہیں۔
شفاف ہیلمٹ کو باقی لباس کی طرح مکمل رنگنے سے اس کی شفافیت چھپ سکتی ہے۔ زیادہ تر حصہ سفید چھوڑ کر کنارے پر دو یا تین ہلکی نیلی محرابیں بنائی جا سکتی ہیں۔ اوپر کی طرف ایک نرم سرمئی لکیر کھڑکی یا بلب کا عکس دکھا سکتی ہے۔ اس طرح بز کا چہرہ صاف نظر آئے گا اور ہیلمٹ گول، شفاف اور چمک دار محسوس ہوگا۔
یہ حصہ بچوں کو ایک مفید بات بھی سکھاتا ہے کہ ہر خالی جگہ ادھورا کام نہیں ہوتی۔ سفید کاغذ روشنی، شفاف پلاسٹک یا چمک کو ظاہر کر سکتا ہے۔ ایک ہی نیلی پنسل کو کبھی بہت ہلکا اور کبھی قدرے زور سے چلا کر مختلف اثر دیکھے جا سکتے ہیں۔ نرم لکیر مدھم عکس بنائے گی، جبکہ قدرے گہری لکیر ہیلمٹ کا خم واضح کرے گی۔
پیٹھ پر موجود کھلنے والے پر مشاہدے اور جوڑ ملانے کی سرگرمی بن سکتے ہیں۔ ان کی بنیاد سفید ہوتی ہے، جبکہ سروں پر سرخ دھاریاں اور سبز تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ بچہ پہلے بائیں پر کا ایک حصہ رنگے، پھر دائیں طرف وہی شکل تلاش کرے۔ جو بچے ترتیب پسند کرتے ہیں وہ دونوں اطراف کو ایک جیسا رکھ سکتے ہیں۔ دوسروں کے لیے ہر پر کو الگ بنانا بھی اتنا ہی مزے دار ہوگا۔
ایک پر پر ٹیم کا نمبر لکھا جا سکتا ہے، دوسرے پر کوئی ستارہ یا مرمت کا نشان بنایا جا سکتا ہے۔ شاید بز تکیوں سے بنے کسی خیالی سیارے پر اترتے وقت ایک پر کو خراش لگا بیٹھا تھا، پھر دوسرے کھلونوں نے نیلے رنگ کا نیا حصہ لگا کر اسے درست کیا۔ یہ فلم کا تصدیق شدہ منظر نہیں، بلکہ بچے کی بنائی ہوئی مہم کا حصہ ہے۔
کریون بڑے حصوں کے لیے اچھے رہتے ہیں، کیونکہ بچے بازو، ٹانگیں اور سینہ کشادہ حرکت سے رنگ سکتے ہیں۔ رنگین پنسل بٹنوں، نشان اور باریک دھاریوں کے لیے زیادہ قابو دیتی ہے۔ اسکیچ پین سبز اور جامنی رنگ کو خوب نمایاں کر سکتے ہیں۔ اگر بچہ واٹر کلر یا پوسٹر کلر استعمال کرنا چاہے تو تصویر کو نسبتاً موٹے کاغذ پر پرنٹ کرنا بہتر ہوگا۔ کم پانی استعمال کرنے سے صفحہ زیادہ نہیں مڑے گا۔
ایک ہی تصویر کی دو کاپیاں پرنٹ کرنا رنگوں کے انتخاب کو اور دلچسپ بنا سکتا ہے۔ پہلی کاپی میں سفید، لائم سبز، جامنی، سرخ اور نیلا استعمال کرکے بز کا معروف لباس بنایا جائے۔ دوسری کاپی میں گہرا نیلا اور چاندی، نارنجی اور سبز یا ستاروں والا نیا اسپیس سوٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ رنگ مکمل طور پر بدلنے کے باوجود ہیلمٹ، سینے کا پینل، پر اور اس کا پراعتماد انداز اسے پہچاننے کے لیے کافی رہیں گے۔
تصویر کے اردگرد خالی جگہ کو سفید چھوڑنا ضروری نہیں۔ جوتوں کا ڈبہ خلائی جہاز بن سکتا ہے، کتابوں کا ڈھیر کسی انجان سیارے کا پہاڑ اور بلڈنگ بلاکس اسٹار کمانڈ کا کنٹرول روم بن سکتے ہیں۔ بچے اپنے کمرے میں نظر آنے والی عام چیزیں کھینچ کر انہیں نئی ذمہ داریاں دے سکتے ہیں۔ یہی کھیل ٹوائے اسٹوری کی دنیا کے بہت قریب ہے، جہاں روزمرہ کی چیزیں تخیل شروع ہوتے ہی مہم کا حصہ بن جاتی ہیں۔
بیرونی خلا کا منظر بنانے کے لیے پیچیدہ ڈرائنگ کی ضرورت نہیں۔ ایک بڑا دائرہ سیارہ بن جائے گا، اس کے گرد لکیر کھینچنے سے حلقے والا سیارہ تیار ہوگا اور چھوٹے نقطے ستارے بن جائیں گے۔ پر کے پیچھے آدھا دائرہ چاند کی طرح دکھایا جا سکتا ہے۔ پس منظر میں گہرا نیلا رنگ ہلکے ہاتھ سے لگایا جائے اور بز کے اردگرد کچھ سفید جگہ چھوڑی جائے تو ایسا لگے گا جیسے خلائی جہاز کی روشنی اس پر پڑ رہی ہو۔
ووڈی، جیسی یا بلز آئی کو بھی تصویر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں فلم کے پوسٹر جیسی باریکی سے کھینچنا ضروری نہیں۔ کاؤ بوائے ٹوپی ووڈی کی نشانی بن سکتی ہے، لمبی چوٹی جیسی کو ظاہر کر دے گی اور چند سادہ لکیروں سے گھوڑے کا چہرہ بناتے ہی بلز آئی بھی ٹیم میں شامل ہو جائے گا۔ چھوٹے سے اضافے سے یہ اکیلے کردار کی تصویر نہیں رہے گی، بلکہ پوری کہانی کا منظر بن جائے گی۔
پہلی ٹوائے اسٹوری میں بز لائٹ ایئر خود کو حقیقی اسپیس رینجر سمجھتا تھا۔ اسے بچوں کا کمرہ عام جگہ نہیں بلکہ ایک نامعلوم علاقہ محسوس ہوتا تھا، جہاں اسے خفیہ مشن مکمل کرنا ہے۔ وہ اپنے پروں، روشنی والے آلے اور کنٹرول بٹنوں کو حقیقی سامان سمجھتا تھا۔ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک کھلونا ہے، مگر اس سچائی نے اس کی بہادری اور دوستوں کا ساتھ دینے کی خواہش ختم نہیں کی۔
بز ہر کام کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ میز سے نیچے اترنا بھی اس کے انداز میں خطرناک لینڈنگ بن سکتا ہے، جبکہ الماری کے پیچھے کسی چیز کی تلاش پوری کہکشاں کا ریسکیو آپریشن محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کا یہی حد سے زیادہ سنجیدہ انداز مزاح پیدا کرتا ہے، مگر ضرورت پڑنے پر وہ واقعی ایک وفادار اور قابل اعتماد دوست ثابت ہوتا ہے۔
ووڈی اور بز کی دوستی بھی پہلی ملاقات میں تیار نہیں ہوئی تھی۔ ووڈی کو خدشہ تھا کہ چمک دار نیا ایکشن فگر اینڈی کے پاس اس کی خاص جگہ لے لے گا۔ بز اس پریشانی کو نہیں سمجھتا تھا، کیونکہ وہ تب تک خود کو حقیقی خلائی محافظ سمجھ رہا تھا۔ مشترکہ مشکلات سے گزر کر دونوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سیکھا۔ ووڈی کھلونوں کے احساسات کو اچھی طرح سمجھتا ہے، جبکہ بز ٹیم بنانے، ذمہداریاں بانٹنے اور کارروائی شروع کرنے میں تیز ہے۔
ٹوائے اسٹوری 5 میں بز جیسی کے مددگار کی حیثیت سے اس کے ساتھ ہے۔ ووڈی بھی ایک غیر متوقع صورتحال کے بعد دوبارہ بونی کے کمرے میں پہنچتا ہے۔ یہ پرانے دوست ایسے وقت اکٹھے ہوتے ہیں جب بونی کی توجہ لِلی پیڈ (Lilypad) نامی ذہین ٹیبلٹ کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔ لِلی پیڈ خود بھی سمجھتی ہے کہ وہ بچے کے لیے بہتر کام کر رہی ہے، اس لیے کہانی ٹیکنالوجی کو محض روایتی ولن نہیں بناتی۔ اصل مسئلہ کھیل کے وقت اور توجہ میں پیدا ہونے والا عدم توازن ہے۔
یہ موضوع رنگ بھرتے ہوئے سادہ انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اسکرین پر تصویر خود حرکت کرتی ہے اور اگلی چیز فوراً سامنے آ جاتی ہے۔ پرنٹ کیا ہوا صفحہ بچے کے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ کون سا رنگ پہلے لگے گا، پس منظر میں کیا ہوگا اور بز نے پر کیوں کھولے ہیں، یہ سب بچہ طے کرتا ہے۔ وہ درمیان میں رک سکتا ہے، کھانے کے بعد واپس آ سکتا ہے، غلط لکیر مٹا سکتا ہے اور نئی شکل بنا سکتا ہے۔
لِلی پیڈ کو پس منظر سے نکالنا بھی ضروری نہیں۔ بچہ ٹیبلٹ کی اسکرین پر خلائی نقشہ، الٹی گنتی یا جیسی کا پیغام بنا سکتا ہے۔ اس اپنی بنائی ہوئی کہانی میں ٹیبلٹ معلومات فراہم کرے اور بز اسکرین سے باہر جا کر اصل کام مکمل کرے۔ یوں ٹیکنالوجی اور ہاتھ سے کھیلے جانے والے کھلونے الگ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فلم میں پچاس نئے Hi-Tech Edition بز لائٹ ایئر ایکشن فگر بھی آتے ہیں۔ وہ اسپیس رینجر موڈ میں پھنسے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں مل کر اسٹار کمانڈ واپس جانا ہے۔ ایک بز پورے اعتماد سے ہدایات دینا شروع کرے تو کمرہ پہلے ہی خاصا مصروف محسوس ہوتا ہے۔ پچاس بز ایک ساتھ ہوں تو ووڈی، جیسی اور باقی کھلونوں کے سامنے کہیں بڑی الجھن کھڑی ہو جاتی ہے۔
یہ خیال گھر یا اسکول میں مشترکہ آرٹ سرگرمی بن سکتا ہے۔ ایک ہی تصویر کئی بار پرنٹ کی جائے اور ہر بچے کو الگ بز تیار کرنے دیا جائے۔ ایک معروف رنگ استعمال کرے، دوسرا چاندی کے جوتے بنائے، کوئی پروں کے سرے نیلے کرے اور کوئی کندھے پر ٹیم نمبر لکھے۔ یہ نئے لباس فلم میں دکھائے گئے تصدیق شدہ ڈیزائن نہیں، بلکہ بچوں کی اپنی بنائی ہوئی اسپیس رینجر ٹیم کے انداز ہوں گے۔
تمام تصویریں ساتھ لگیں تو ایک بڑی رنگین ٹیم تیار ہو سکتی ہے۔ ہر بز کو الگ کام بھی دیا جا سکتا ہے۔ ایک رنگوں کے ڈبے کی حفاظت کرے، دوسرا گم شدہ ربڑ تلاش کرے، تیسرا کتابوں کی الماری دیکھے اور چوتھا بکھرے ہوئے بلاکس جمع کرے۔ رنگ بھرنے کے ساتھ بولنے، نام لکھنے اور کردار بانٹنے کی سرگرمی بھی خود بخود شامل ہو جائے گی۔
کلاس میں سب بچے ایک ہی سیاہ سفید خاکے سے شروع کریں گے، مگر مکمل تصویریں شاید ایک جیسی نہ ہوں۔ کسی نے اصل رنگوں پر توجہ دی ہوگی، کسی نے سوٹ پر نئی شکلیں بنائی ہوں گی اور کسی نے پورا خلائی منظر شامل کر دیا ہوگا۔ سب سے خوب صورت تصویر منتخب کرنے کی ضرورت نہیں۔ زیادہ دلچسپ بات یہ سننا ہوگی کہ ہر بچے نے اپنے رنگ اور مشن کیوں چنے۔
گھر میں صرف دو کاپیاں بھی موازنہ کرنے کا کھیل بنا سکتی ہیں۔ ایک تصویر معروف رنگوں کے ساتھ مکمل کی جائے اور دوسری میں نیا لباس بنایا جائے، مگر کام ختم ہونے تک ایک دوسرے کو نہ دکھایا جائے۔ بعد میں دونوں صفحات ساتھ رکھ کر بٹنوں کے رنگ، پروں کے نقش اور شفاف ہیلمٹ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مقابلہ نہیں، بلکہ ایک ہی تصویر میں موجود مختلف امکانات کو پہچاننے کا طریقہ ہے۔
تصویر کے نیچے مشن کا نام لکھنے کے لیے جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ “پلنگ کے نیچے سے سگنل”، “پچاس اسپیس رینجر”، “اسٹار کمانڈ کی کال” یا “تکیوں کے سیارے کا مشن” جیسے نام کہانی شروع کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ٹیم نمبر، منزل اور تلاش کی جانے والی چیز لکھی جا سکتی ہے۔ ابھی لکھنا سیکھنے والے بچے علامتیں بنائیں۔ ستارہ خلا، میگنیفائنگ گلاس تلاش اور سرخ دائرہ منزل کی نشانی ہو سکتا ہے۔
اسپیس رینجر کا شناختی کارڈ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس پر نام، ٹیم نمبر، منزل کا سیارہ اور خاص مہارت درج ہو۔ مہارت کا بہت سنجیدہ ہونا ضروری نہیں۔ کوئی بز پلنگ کے نیچے سے گمشدہ موزہ ڈھونڈنے میں ماہر ہو سکتا ہے، دوسرا سونے سے پہلے کھلونے سمیٹ سکتا ہے اور تیسرا صوفے کے کشن سے بنے جہاز کو چلا سکتا ہے۔
پہلی ٹوائے اسٹوری کی تیاری کے دوران اس کردار کا نام فوراً Buzz Lightyear طے نہیں ہوا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں “Lunar Larry” اور “Tempus from Morph” جیسے عارضی نام استعمال ہوئے۔ بعد میں خلا باز بز آلڈرن کے اعزاز میں Buzz کا نام چنا گیا۔ Lightyear نے نام میں خلائی سفر کا احساس مزید مضبوط کر دیا۔
سبز اور جامنی رنگوں کی تکرار بھی لباس کے مختلف حصوں کو جوڑتی ہے۔ سبز سینے سے شروع ہو کر بازوؤں اور ٹانگوں تک جاتا ہے، جبکہ جامنی سر، کمر اور نچلے حصوں میں دوبارہ دکھائی دیتا ہے۔ بچہ اپنی نئی وردی میں بھی یہی طریقہ آزما سکتا ہے۔ ایک مرکزی رنگ مختلف مقامات پر دہرانے سے پورا لباس ایک ہی ڈیزائن کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
اصل انگریزی ورژن میں ٹم ایلن دوبارہ بز لائٹ ایئر کی آواز ادا کرتے ہیں۔ فلم کے ہدایت کار اینڈریو اسٹینٹن ہیں، جبکہ کینا ہیرس نے شریک ہدایت کار اور شریک مصنف کے طور پر کام کیا۔
رنگ مکمل ہونے کے بعد کسی بڑے کی مدد سے بز کو احتیاط سے کاٹ کر گہرے نیلے یا سیاہ چارٹ پیپر پر چپکایا جا سکتا ہے۔ سفید اور پیلے نقطے ستاروں والا آسمان بنا دیں گے۔ پیچھے تہ کیا ہوا کاغذ لگانے سے کردار میز پر کھڑا رہ سکتا ہے۔ کئی کاپیاں ہوں تو کتابوں، ڈبوں اور بلڈنگ بلاکس کے درمیان پوری اسپیس رینجر ٹیم کھیل سکتی ہے۔
یہ تصویر گھر یا اسکول میں بنائی جانے والی چھوٹی ٹوائے اسٹوری کتاب کا پہلا صفحہ بھی بن سکتی ہے۔ اگلے صفحات پر ووڈی، جیسی، لِلی پیڈ یا نئی مہم کے مقامات بنائے جائیں۔ بچہ ہر صفحے پر ایک مختصر جملہ لکھ سکتا ہے یا اپنی بات کسی بڑے کو سنا کر لکھوا سکتا ہے۔ صفحات کو ربن، اسٹیپلر یا فولڈر سے جوڑا جا سکتا ہے۔
اب بز تصویر میں کھڑا ہے، ہیلمٹ تیار ہے، سینے کے بٹن رنگ چکے ہیں اور پر کسی بھی لمحے کھل سکتے ہیں۔ صرف منزل باقی ہے۔ ممکن ہے پچاس Hi-Tech Edition بز میں سے ایک پردے کے پیچھے چھپ گیا ہو۔ شاید ووڈی اور جیسی کو بونی کے کھیل کے وقت میں کھلونوں کے لیے دوبارہ جگہ بنانے میں مدد چاہیے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صوفہ اچانک کسی نئے سیارے میں بدل گیا ہو اور کشنوں کے درمیان سے عجیب سگنل آ رہا ہو۔ پہلے منتخب کیے گئے رنگ، پس منظر میں بنائی گئی چیزیں اور مشن کا نام طے کرے گا کہ بز لائٹ ایئر اس بار کہاں جائے گا۔

