
ونی کے کمرے میں کھیل شروع ہونے والا ہے، مگر آج جیسی (Jessie) نے رنگوں کے لیے ایک دلچسپ شرط رکھی ہے۔ جو بچہ اس کے لباس میں چھپی ہوئی سات خاص چیزیں ڈھونڈ لے گا، وہی فیصلہ کرے گا کہ اس کی نئی شیرف والی مہم میں کون سے رنگ استعمال ہوں گے۔ تصویر میں سرخ کاؤگرل ٹوپی، لمبی چوٹی، دو بڑے بٹن، سنہری بکل، نیلی جینز، گائے جیسے دھبے اور مضبوط بوٹ تلاش کریں۔ سب چیزیں مل جائیں تو ٹوائے اسٹوری 5 کی جیسی کی یہ رنگ بھرنے والی تصویر پرنٹ کرکے رنگین پنسلیں، مومی رنگ یا اسکیچ پین نکالے جا سکتے ہیں۔
جیسی کا لباس ایک ہی طرح کے بڑے خانوں پر مشتمل نہیں۔ کہیں کھلا حصہ ہے جہاں چھوٹے بچے آرام سے کریون چلا سکتے ہیں، کہیں باریک مڑے ہوئے نقش ہیں جن کے لیے قدرے نوکیلی پنسل بہتر رہتی ہے۔ اس کی ٹوپی، جینز اور بوٹ جلد رنگے جا سکتے ہیں، جبکہ قمیص کی آرائش، ٹوپی کے ٹانکے اور بیلٹ کی بکل کچھ زیادہ توجہ مانگتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ تصویر مختصر تفریح بھی بن سکتی ہے اور کئی مرحلوں میں مکمل ہونے والا آرٹ پراجیکٹ بھی۔
رنگ بھرنے سے پہلے بچے سے کہیں کہ وہ صرف ایک رنگ منتخب کرے، مگر اسے فوراً استعمال نہ کرے۔ پہلے یہ سوچنا ہے کہ وہ رنگ جیسی کی شخصیت کے کس حصے سے میل کھاتا ہے۔ چمک دار سرخ اس کی پھرتی دکھا سکتا ہے، پیلا اس کی خوش مزاجی، نیلا اس کے پراعتماد انداز اور سبز کسی نئی خیالی مہم کی علامت بن سکتا ہے۔ پھر وہی پہلا رنگ تصویر کے ایک چھوٹے حصے میں لگایا جائے، تاکہ باقی رنگوں کا انتخاب بھی اسی سے جڑتا چلا جائے۔
فلموں میں جیسی کی بڑی کاؤگرل ٹوپی سرخ ہوتی ہے اور دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ جانا پہچانا انداز بنانا ہو تو ٹوپی کے درمیان میں روشن سرخ رنگ بھریں، پھر کناروں کے قریب گہرا سرخ یا میرون شامل کریں۔ اوپر ایک چھوٹا حصہ ہلکا چھوڑ دینے سے یوں محسوس ہوگا جیسے کمرے کی روشنی ٹوپی پر پڑ رہی ہو۔ ایک ہی سرخ پنسل سے بھی یہ فرق پیدا کیا جا سکتا ہے، بس درمیان میں ہاتھ ہلکا اور کناروں پر تھوڑا مضبوط رکھنا ہوگا۔
ٹوپی کے کنارے پر سفید سلائی جیسے چھوٹے نشانات بنے ہیں۔ کم عمر بچے انہیں ایک ایک کرکے ہلکے پیلے، سفید یا کریم رنگ سے ڈھانپ سکتے ہیں۔ نسبتاً بڑے بچے ان نشانات کو رنگوں کی ترتیب میں بدل سکتے ہیں۔ ایک ٹانکا سفید، دوسرا پیلا، تیسرا نارنجی اور پھر یہی ترتیب دوبارہ شروع ہو۔ آخر تک پہنچ کر دیکھا جا سکتا ہے کہ ترتیب کتنی دیر درست رہی۔
اگر کوئی ٹانکا اپنی حد سے زیادہ لمبا ہوجائے تو اسے مٹانا ضروری نہیں۔ اس کے سرے پر چھوٹا سا ستارہ، پھول یا دل بنا دیں۔ ایک معمولی سا بےترتیب نشان ٹوپی کی نئی سجاوٹ بن جائے گا۔ بچوں کو اس طرح یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ مصوری میں ہر لکیر کو بالکل پہلے سے طے شدہ شکل میں رکھنا لازم نہیں۔
اسی تصویر کی دوسری کاپی پرنٹ کرکے جیسی کے لیے بالکل نئی ٹوپی تیار کی جا سکتی ہے۔ گہرے نیلے رنگ پر سفید نقطے رات کے آسمان جیسے لگیں گے۔ جامنی ٹوپی پر چاند اور سیارے بنائے جائیں تو وہ بز لائٹ ایئر (Buzz Lightyear) کے ساتھ خلائی کھیل کے لیے تیار نظر آئے گی۔ سبز ٹوپی پر پتے، چھوٹے پھول یا رنگ برنگی پتنگیں بنائی جا سکتی ہیں۔
ٹوپی کے سامنے بچے کے نام کا پہلا حرف بھی لکھا جا سکتا ہے۔ حرف کو شیرف کے ستارے کے اندر رکھیں، جیسے جیسی نے بچے کو اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہو۔ گھر میں ایک سے زیادہ بچے تصویر رنگ رہے ہوں تو سب اپنا الگ نشان بنائیں۔ کسی کا نشان ستارہ ہوگا، کسی کا چاند، کسی کا پھول اور کسی کا ننھا سا گھوڑا۔
جیسی کی لمبی سرخ چوٹی کو ٹوپی کی طرح سیدھے ہاتھ سے رنگنے کے بجائے اس کے بل کھاتے دھاگوں کے ساتھ پنسل چلائی جا سکتی ہے۔ اس کے بال عام گڑیا کے ہموار بالوں کے بجائے سرخ اون کے دھاگوں جیسے نظر آتے ہیں۔ روشن سرخ کو بنیادی رنگ بنائیں، پھر چند جگہوں پر نارنجی، اینٹ جیسا سرخ، گہرا میرون اور ہلکا بھورا شامل کریں۔
چوٹی کے جہاں دو حصے ایک دوسرے کے نیچے جاتے دکھائی دیں، وہاں رنگ قدرے گہرا کیا جا سکتا ہے۔ جو حصے اوپر ابھرے ہوئے نظر آئیں، انہیں ہلکا رکھیں۔ اس آسان فرق سے چوٹی سپاٹ نہیں لگے گی۔ بچے کو سایہ بنانے کے مشکل اصول سمجھانے کی ضرورت نہیں، صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ اندر والے حصے گہرے اور باہر والے حصے ہلکے رکھے جائیں۔
اس چوٹی کو کاغذ سے نکلتی ہوئی محسوس کرانے کے لیے اصل اون بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ کوئی بڑا شخص صاف سرخ اون کے چند مختصر ٹکڑے کاٹ دے۔ بچہ تصویر کی چوٹی پر تھوڑا سا گوند لگاکر دھاگے اسی رخ میں چپکائے۔ آخر میں پیلا فیتہ رنگین کاغذ، صاف ربن یا کپڑے کے چھوٹے ٹکڑے سے بنایا جا سکتا ہے۔
گوند والی سرگرمی کے لیے نسبتاً موٹے کاغذ پر تصویر پرنٹ کرنا بہتر ہے۔ عام پرنٹر پیپر رنگین پنسل اور کریون کے لیے مناسب ہے، مگر زیادہ گوند یا پانی سے مڑ سکتا ہے۔ اسکیچ پین استعمال کیے جائیں تو نیچے ایک اضافی کاغذ رکھیں، تاکہ روشنائی میز تک نہ پہنچے۔ واٹر کلر یا پوسٹر کلر کے لیے موٹا ڈرائنگ پیپر زیادہ آرام دہ رہتا ہے۔
جیسی کا چہرہ اس وقت رنگا جا سکتا ہے جب بچے کا ہاتھ باقی تصویر پر کچھ دیر چل چکا ہو۔ جلد کا رنگ ہلکے ہاتھ سے آہستہ آہستہ بھریں۔ گالوں پر بہت تھوڑا گلابی رنگ اس کے چہرے کو مزید خوش باش بنا سکتا ہے۔ آنکھوں کے اندر ایک ننھا سفید نقطہ چھوڑنے سے چمک پیدا ہوتی ہے۔
بچہ چاہے تو چند باریک جھائیاں بھی بنا سکتا ہے۔ منہ کے قریب ایک چھوٹی سی اضافی لکیر جیسی کو ہنستا ہوا، حیران یا کسی کو آواز دیتا ہوا دکھا سکتی ہے۔ چہرے کے پاس ایک گفتگو کا بلبلہ بناکر یہ بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس لمحے کیا کہہ رہی ہے۔
اس کی سفید قمیص کو مکمل طور پر خالی چھوڑنا ضروری نہیں۔ سلائی، کالر اور کپڑے کی تہوں کے پاس بہت ہلکا نیلا یا سرمئی رنگ لگایا جائے تو سفید کپڑا پس منظر سے الگ دکھائی دے گا۔ قمیص کا زیادہ تر حصہ سفید رہنے کے باوجود اس کی ساخت واضح نظر آئے گی۔
کندھوں اور کلائیوں کے قریب پیلے حصے موجود ہیں۔ انہیں چمک دار پیلا، سنہری پیلا یا ہلکے نارنجی رنگ کے ساتھ بھرا جا سکتا ہے۔ ایک طرف رنگ زیادہ روشن اور دوسری طرف قدرے گہرا رکھا جائے تو ایسا لگے گا جیسے روشنی ایک سمت سے آرہی ہے۔
قمیص پر سرخ رنگ کے مڑے ہوئے نقش چھوٹی بیلوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ اچھی طرح تراشی ہوئی رنگین پنسل ان باریک راستوں پر آسانی سے چل سکتی ہے۔ کوئی لکیر باہر نکل جائے تو اسے پتی، پھول، گھومتے ہوئے دائرے یا ستارے میں بدل دیں۔ دونوں طرف کے نقش بالکل ایک جیسے بنانا ضروری نہیں۔
پاکستانی بچوں کے لیے جانی پہچانی سجاوٹ سے نیا ڈیزائن بھی بنایا جا سکتا ہے۔ قمیص کے ایک حصے پر چھوٹے پھول، نقطے یا ہندسی شکلیں بنیں، جبکہ دوسری طرف رنگین پتنگیں یا سادہ چاند تارے شامل ہوں۔ یہ فلم میں دکھایا گیا باقاعدہ لباس نہیں ہوگا، بلکہ بچے کی اپنی بنائی ہوئی خصوصی پوشاک ہوگی۔
قمیص پر موجود دو بڑے سفید بٹن چھوٹے گول کینوس کی طرح استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایک کے اندر شیرف کا ستارہ اور دوسرے میں بُلز آئی (Bullseye) کے کھر کا نشان بنایا جائے۔ بہت باریک تصویر بنانا مشکل لگے تو ایک بٹن میں J اور دوسرے میں B لکھیں، جو جیسی اور بونی (Bonnie) کے ناموں کی طرف اشارہ کریں گے۔
بٹن کو چمک دار بنانے کے لیے ایک کنارے پر ہلکا سرمئی رنگ لگائیں اور درمیان میں سفید نقطہ چھوڑ دیں۔ سونے یا چاندی کا قلم موجود ہو تو دونوں بٹنوں کو خاص رنگ دیا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ حصے چھوٹے ہیں، اس لیے چمک دار رنگ پورے لباس پر بھاری نہیں پڑے گا۔
کمر کے گرد گہرا بھورا بیلٹ ہے، جس کے درمیان بیل کے سر جیسی سنہری بکل بنی ہوئی ہے۔ یہ حصہ چھوٹا ہونے کے باوجود تصویر کے عین درمیان میں ہونے کی وجہ سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ پیلا، ہلکا بھورا اور نارنجی ملاکر سنہری اثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بکل کے کسی ایک کنارے کو سفید چھوڑنے سے دھات پر روشنی کا عکس محسوس ہوگا۔
بیلٹ کے ساتھ ایک خفیہ جیب بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس میں بونی کے کمرے کا نقشہ، کھلونوں کے صندوق کی چابی، وُڈی (Woody) کے لیے پیغام یا بُلز آئی کو بلانے والی چھوٹی سی سیٹی رکھی ہو سکتی ہے۔ یہ چیزیں فلم کے کسی تصدیق شدہ منظر کا حصہ نہیں، بلکہ رنگ بھرنے والے بچے کی اپنی کہانی کے اوزار ہیں۔
جیسی کی نیلی جینز باریک نقشوں کے بعد ایک کشادہ اور آسان حصہ فراہم کرتی ہے۔ پہلے پورے حصے میں ہلکا نیلا رنگ بھریں، پھر سلوٹوں، سلائی اور کناروں کے پاس گہرا نیلا شامل کریں۔ ایک ہی رخ میں چھوٹی چھوٹی لکیریں جینز کے کپڑے جیسا احساس پیدا کریں گی۔
گھٹنے کے قریب اپنی مرضی کا پیوند بھی بنایا جا سکتا ہے۔ پیوند شیرف کے ستارے، بادل، گھوڑے کی نعل یا بچے کے نام کے پہلے حرف جیسا ہو سکتا ہے۔ اس کے گرد باریک ٹانکے بنائے جائیں تو یوں لگے گا جیسے جیسی نے نئی مہم سے پہلے اپنی جینز خود درست کی ہو۔
ٹانگوں پر گائے کی کھال جیسے دھبوں والے حصے میں برابری اور سیدھی شکلوں کی پابندی نہیں۔ ایک دھبہ گول، دوسرا لمبا اور تیسرا بادل یا چھوٹے جزیرے جیسا ہوسکتا ہے۔ جیسی کے جانے پہچانے لباس میں سفید پس منظر پر سیاہ دھبے ہوتے ہیں، مگر رنگ بھرنے والی تصویر میں انہیں بدلنے کی پوری آزادی ہے۔
ایک ٹانگ کو روایتی سیاہ اور سفید رکھا جائے، جبکہ دوسری پر گلابی، جامنی، سبز اور نارنجی دھبے بنیں۔ یہ کھلونوں کی کسی خیالی تقریب کے لیے نئی پوشاک ہوسکتی ہے۔ ہر دھبے کے اندر الگ نمونہ بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جیسے نقطے، دھاریاں، ننھے ستارے یا چھوٹے پھول۔
رنگ بھرنے سے پہلے چند دھبوں میں خفیہ نشان چھپا دیں۔ ایک دل، دو ستارے، تین دائرے اور ایک چھوٹا حرف بنائیں۔ تصویر مکمل ہونے کے بعد گھر کا کوئی فرد ان سب کو تلاش کرے۔ آسان کھیل کے لیے نشانوں کو متضاد رنگ دیں، جبکہ مشکل کھیل میں دھبے کے قریب رنگ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
بھورے کاؤگرل بوٹ بالکل نئے بھی دکھائے جا سکتے ہیں اور لمبے سفر سے لوٹے ہوئے بھی۔ درمیانی حصے پر ہلکا بھورا اور تلوے کے پاس گہرا بھورا رنگ لگائیں۔ اگلے حصے پر ہلکی خاکی لکیریں بنیں تو بوٹ پر راستے کی گرد محسوس ہوگی۔
تقریب والی جیسی کے بوٹوں پر پیلے ستارے، سرخ شعلے، رنگین سلائی یا پھول بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک بوٹ پر J اور دوسرے پر بچے کے نام کا پہلا حرف لکھا جائے۔ دونوں بوٹوں کا ڈیزائن مختلف بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے ایک مہم کے لیے اور دوسرا کھلونوں کی تقریب کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
تصویر میں حرکت پیدا کرنے کے لیے کردار کی پوزیشن بدلنا ضروری نہیں۔ بوٹوں کے پیچھے چند مڑی ہوئی لکیریں ظاہر کریں گی کہ جیسی ابھی دوڑ کر رکی ہے۔ چوٹی کو ایک طرف ہلتا ہوا دکھائیں، قریب ایک کھلا نقشہ بنائیں اور کھر کے نشان کاغذ کے کنارے تک لے جائیں۔ چند سادہ اضافوں سے تصویر کسی جاری کہانی کا منظر بن جائے گی۔
ٹوائے اسٹوری 5 میں جیسی بونی کے کمرے کی نئی شیرف ہے۔ وہ کھلونوں کی ٹیم کو ایک اہم مہم پر لے جاتی ہے، جس کا مقصد بونی کو نئے دوست بنانے میں مدد دینا ہے۔ لِلی پیڈ (Lilypad) نام کا نیا ٹیبلٹ بونی کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور کھیل کے روایتی انداز کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیتا ہے۔
جیسی اپنے قابل اعتماد گھوڑے بُلز آئی کے ساتھ بونی کی مدد کے لیے نکلتی ہے۔ دونوں باقی کھلونوں سے الگ ہوجاتے ہیں اور پھر کچھ غیر متوقع نئے دوستوں کی مدد سے واپس بونی تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یہ تصدیق شدہ کہانی بچے کو پس منظر بنانے کا نقطۂ آغاز دیتی ہے، مگر اسے فلم کا کوئی منظر نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔
کاغذ کے ایک طرف بلڈنگ بلاکس، چھوٹی گاڑیاں، گڑیاں، تصویری کتابیں اور نرم کھلونے بنائے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف لِلی پیڈ کی اسکرین نظر آئے۔ جیسی درمیان میں کھڑی ہو اور ایسا نیا کھیل سوچ رہی ہو جس میں کمرے کی مختلف چیزیں شریک ہوسکیں۔
بچے کی اپنی کہانی میں ٹیبلٹ اور روایتی کھلونے لازماً مخالف نہیں ہوں گے۔ لِلی پیڈ اسکرین پر نقشہ دکھا سکتا ہے، جبکہ جیسی کتابوں، پنسلوں اور بلاکس سے اصل راستہ بنوائے۔ ٹیبلٹ موسیقی چلا سکتا ہے اور بُلز آئی کھلونوں کی پریڈ میں چل سکتا ہے۔
بونی اسکرین پر کسی عمارت کی تصویر دیکھ کر اسے اپنے ہاتھوں سے بلاکس کے ذریعے بنا سکتی ہے۔ اس طرح ٹیکنالوجی ایک بڑے تخلیقی کھیل کا حصہ بن جاتی ہے، جبکہ ڈرائنگ، تعمیر اور کہانی سنانے کی جگہ بھی برقرار رہتی ہے۔
بُلز آئی کو پورا بنانا مشکل لگے تو کھلونوں کے ڈبے کے پیچھے سے نکلتے ہوئے صرف دو کان کافی ہیں۔ فرش پر کھر کے نشان بھی بتا سکتے ہیں کہ وہ ابھی وہاں سے گزرا ہے۔ جیسی کے قریب نشان بڑے اور دور جاتے ہوئے چھوٹے بنائیں، تاکہ تصویر میں فاصلے کا احساس پیدا ہو۔
انہی نشانات سے بھول بھلیاں بنائی جا سکتی ہے۔ تین راستے جیسی کے سامنے سے شروع ہوں۔ پہلا کتابوں کے بیچ سے گزرے، دوسرا تکیے کے گرد مڑے اور تیسرا کمبل کے نیچے جائے۔ بُلز آئی ایک راستے کے آخر میں انتظار کرے، جبکہ دوسرے راستوں پر مزاحیہ حیرتیں ملیں۔
ایک راستے پر ریکس ٹوکری میں چھپا ہوسکتا ہے، دوسرے پر ہیم پنسلوں کے ڈبے کے پیچھے سے جھانک رہا ہو۔ اس طرح غلط راستہ بھی خالی نہیں رہتا اور بچہ کئی مرتبہ نشانات پر انگلی چلاکر نئی چیزیں تلاش کرسکتا ہے۔
ایک چھوٹے کھلونے کی نظر سے بونی کا عام سا کمرہ بہت بڑی دنیا بن جاتا ہے۔ تکیہ پہاڑ، اسکیل پل، تہہ شدہ کمبل اونچی نیچی وادی اور کھڑی کتابیں عمارتیں بن سکتی ہیں۔ قطار میں رکھی پنسلیں ایک لمبی باڑ بنیں، جس کے پار جانے کے لیے جیسی کو راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
پس منظر بنانے کے لیے پیچیدہ ڈرائنگ کی ضرورت نہیں۔ دو گول لکیریں پہاڑی بناتی ہیں، لمبا مستطیل پل بن سکتا ہے اور ڈھکن والا مربع کھلونوں کا صندوق۔ چند تیر، کھڑکیاں اور رنگ شامل ہوتے ہی سادہ شکلیں مہم کا حصہ بن جائیں گی۔
جیسی پہلی بار ٹوائے اسٹوری 2 میں وُڈی کے پرانے ٹیلی وژن پروگرام سے وابستہ کاؤگرل گڑیا کے طور پر سامنے آئی تھی۔ بُلز آئی بھی اسی کاؤبوائے دنیا کا حصہ تھا۔ اس پس منظر کی وجہ سے ٹوپی، شیرف کا ستارہ، گھوڑا اور مغربی انداز کے نقش اس کے کردار سے فطری طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
جیسی کا جوشیلا اور بےخوف انداز بھی اس کی نمایاں پہچان ہے۔ وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھنے والی گڑیا نہیں، بلکہ دوستوں کی مدد کے لیے فوراً حرکت میں آنے والی کردار ہے۔ اسی لیے اس تصویر کے اردگرد نقشے، قدموں کے نشان، راستے اور گفتگو کے بلبلے خاص طور پر اچھے لگتے ہیں۔
جیسی کے چہرے کے پاس گفتگو کا ایک خالی بلبلہ بنائیں۔ وہ بُلز آئی کو آواز دے رہی ہوسکتی ہے، کھلونوں کو میٹنگ کے لیے بلا رہی ہوگی یا نئی مہم کا اعلان کر رہی ہوگی۔ لکھنے والے بچے مختصر جملہ شامل کریں، جبکہ چھوٹے بچے نقشہ، دل، ستارہ یا فجائیہ نشان بنا سکتے ہیں۔
دو ایک جیسی تصاویر پرنٹ کرکے رنگوں کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلی تصویر میں جیسی کے معروف رنگ رکھیں، جیسے سرخ ٹوپی، سفید اور پیلی قمیص، نیلی جینز اور بھورے بوٹ۔ دوسری تصویر کے لیے پہلے سے صرف چار رنگ منتخب کیے جائیں۔
اگر یہ چار رنگ جامنی، سبز، نارنجی اور گلابی ہوں تو بچے کو پورا لباس انہی میں تقسیم کرنا ہوگا۔ محدود رنگ بعض اوقات زیادہ منفرد فیصلے کرواتے ہیں۔ دونوں تصاویر ساتھ رکھنے پر ایک جیسی لکیروں سے دو بالکل مختلف انداز سامنے آئیں گے۔
بہن بھائی یا دوست ایک دوسرے کی تصویر دیکھے بغیر بھی یہی کھیل کھیل سکتے ہیں۔ کام مکمل ہونے کے بعد دونوں تصویروں میں تین مشابہتیں اور تین فرق تلاش کریں۔ ہوسکتا ہے دونوں نے چوٹی سرخ رکھی ہو، مگر ٹوپی، بوٹ اور دھبوں کے رنگ الگ ہوں۔
اس کھیل میں خوبصورت ترین تصویر منتخب کرنے کی ضرورت نہیں۔ دلچسپی اس بات میں ہے کہ ایک ہی خاکہ دیکھ کر دو لوگوں نے مختلف فیصلے کیوں کیے۔ ایک بچے نے گہرے رنگ کیوں چنے اور دوسرے نے ہلکے، یہ گفتگو بھی سرگرمی کا حصہ بن سکتی ہے۔
کلاس میں ہر گروپ کو الگ پس منظر دیا جا سکتا ہے۔ پہلا گروپ بونی کا کمرہ بنائے، دوسرا گتے کے ڈبوں سے کاؤبوائے قصبہ اور تیسرا بز لائٹ ایئر کا خلائی مرکز۔ تمام صفحات قطار میں رکھے جائیں تو جیسی کا طویل سفر تیار ہوگا۔
تصویر کے نیچے تین چھوٹے خانے بناکر مختصر کامک بھی بن سکتی ہے۔ پہلے خانے میں جیسی کو نئی ذمہ داری ملے، دوسرے میں بُلز آئی کے کھر کے نشان نظر آئیں اور تیسرے میں کسی نئی چیز کی دریافت ہو۔ لمبے جملوں کی ضرورت نہیں، تیروں، تاثرات اور چھوٹے بلبلوں سے کہانی سمجھ آسکتی ہے۔
سفید مومی رنگ اور واٹر کلر سے ایک چھپا ہوا نقش بھی بنایا جا سکتا ہے۔ پہلے سفید کریون سے ٹوپی پر ستارے، نقطے یا نام لکھیں۔ سفید کاغذ پر یہ نشان بہت کم نظر آئیں گے۔ ان کے اوپر ہلکا سرخ واٹر کلر لگتے ہی موم والے حصے رنگ قبول نہیں کریں گے اور نقش ابھر آئے گا۔
اس سرگرمی میں موٹا کاغذ اور کم پانی استعمال کیا جائے۔ برش کو بہت گیلا کرنے کے بجائے تھوڑا رنگ لے کر آہستہ چلائیں۔ بچے کے لیے یہ چھوٹا سا حیرت انگیز تجربہ ہوگا کہ چھپی ہوئی لکیریں اچانک کیسے دکھائی دینے لگیں۔
رنگ اور گوند مکمل خشک ہونے کے بعد کوئی بڑا شخص جیسی کو بیرونی لکیر کے گرد کاٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ سیاہ لکیر کے باہر باریک سفید کنارہ چھوڑیں، تاکہ چھوٹی تفصیلات محفوظ رہیں۔ کردار کو گتے پر چپکاکر پیچھے تہہ شدہ کاغذ لگایا جائے تو وہ کھڑا ہوسکتا ہے۔
جوتوں کا خالی ڈبہ بونی کے کمرے میں بدل سکتا ہے۔ کپڑے کا ٹکڑا قالین، بلاکس فرنیچر اور گتے کا مستطیل لِلی پیڈ کی اسکرین بنے۔ جیسی دوستوں کو جمع کرے، بُلز آئی کے نشان تلاش کرے یا سب کے لیے نیا کھیل ترتیب دے۔
وُڈی، بز لائٹ ایئر اور بُلز آئی کی مزید کاغذی شکلیں شامل ہوں تو گھر کا بنایا ہوا ٹوائے اسٹوری تھیٹر تیار ہوجائے گا۔ بچے مختلف آوازوں میں مکالمے بول سکتے ہیں۔ ڈبے میں موجود چیزوں کی جگہ بدلتے ہی ہر مرتبہ نئی کہانی شروع ہوگی۔
رنگ بھرنے والی کئی تصاویر ملاکر اپنی ٹوائے اسٹوری کتاب بھی بنائی جا سکتی ہے۔ پہلے صفحے پر جیسی کا نام بڑے حروف میں لکھیں اور حروف کے اندر شیرف کے ستارے، سلائی اور گائے جیسے دھبوں کے نمونے بھریں۔ اگلے صفحات بُلز آئی، وُڈی، بز اور دوسرے دوستوں کے لیے رکھے جائیں۔
ہر صفحے پر کردار کے لیے ایک آسان کام بنایا جا سکتا ہے۔ کوئی راستہ تلاش کرے، کوئی گم شدہ چیز ڈھونڈے، کوئی نئی عمارت بنائے اور کوئی دوستوں کو اکٹھا کرے۔ کہانی صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ تصویروں، تیروں، نشانوں اور رنگوں کے ذریعے بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔
بونی کے کمرے میں کھیل کا وقت شروع ہوچکا ہے اور جیسی نے اپنی سات چیزیں دوبارہ گن لی ہیں۔ ٹوپی، چوٹی، بٹن، بکل، جینز، دھبے اور بوٹ سب تصویر میں موجود ہیں، مگر ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ ان کے رنگ کیا ہوں گے۔ شاید وہ اپنے معروف سرخ، پیلے اور نیلے لباس میں نئی مہم پر جائے، یا بچے کی بنائی ہوئی جامنی اور سبز پوشاک پہن لے۔ راستے کا اگلا نشان اسی وقت ظاہر ہوگا جب تصویر پرنٹ ہوکر میز پر آئے گی اور پہلی پنسل سفید جگہ کو چھوئے گی۔

